لاہور: جدید آلات سے لیس ڈولفن فورس ہیوی بائیکس پر گشت کر کے جرائم پر قابو پانے اورملزموں کا پیچھا کر کے انہیں پکڑنے کی بجائے سڑکوں پر ناکے لگا کر شہریوں اور فیملیز کی چیکنگ کرنے اور انہیں ہراساں کرنے والی فورس بن کر رہ گئی ہے۔ روزنامہ نوائے وقت کی رپورٹ کے مطابق فورس اب تک کوئی بڑا کارنامہ سرانجام نہیں دے سکی مگر بادامی باغ بند روڈ پر فائرنگ سے 14سالہ لڑکے کو ہلاک کرنے،سبزہ زار میں ذہنی مریض کو گولیوں سے بھون ڈالنے اور شہریوں کو گھٹنوں کے بل زمین پر بٹھا کر ان کی تذلیل کرنے جیسے واقعات کا کریڈٹ انہیں ضرور جاتا ہے۔ ترکی کے تعاون سے بنائی ڈولفن فورس سٹریٹ کرائم پر قابو پانے میں ناکام و بے بس دکھا ئی دیتی ہے۔ گلی محلوں میں ناکے لگا کرشہریوں کو روکنے،ان کی تلاشی لینے،فیملیز کو ہراساں و پریشان کرنے سے خصوصاََ موٹر سائیکل سواروں کی شامت آ گئی ہے۔ ناکوں پر مختلف ہتھکنڈوں سے شہریوں سے دیہاڑیاں لگائی جا رہی ہیں۔ فورس کے جوان گلی محلوں میں بھی ہاتھوں میں گنز تھام کر ناکے لگا لیتے ہیںجس سے شریف شہری اور خواتین خوفزدہ ہوجاتی ہیں اور نوجوانوں کا موٹرسائیکلوں پر گھر سے نکلنا ناممکن ہوگیا ہے۔ ڈولفن سکواڈکے جوانوں نے شہر میں شراب فروش ہوٹلوں کے باہر بھی ڈیرے ڈال لئے ہیں اور وہ ہوٹل سے شراب لیکر باہر آنے والے کی موبائل فوٹیج بنا کراس سے دیہاڑیاں لگانے میں سرگرم ہیں۔ جوانوں کے گرلز کالجز کے باہر بھی مٹر گشت اور ہیوی بائیک پر ماڈلنگ کی شکایات بھی سامنے آئی ہیں۔گشت کی بجائے ڈولفن اہلکار بلاجواز کھڑے اور آپس میں گپیں ہانکتے بھی نظر آئیں گے۔اس صورت حال پر شہریوں نے شدید احتجاج کیا ہے اور کہا ہے ڈولفن فورس کا گشت بڑھایا جائے اور ناکوں پر شہریوں کو پریشان و خوار کرنے کا سلسلہ بند کیا جائے۔