اسلام آباد:  وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری اور پاکستان تحریک انصاف کے سیکرٹری جنرل ارشد داد نے پاکستان مسلم لیگ ن کے صدر شہباز شریف سے  پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی چیئرمین شپ سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مسلم لیگ ن اور شہبازشریف کی طرف سے پی اے سی کے عہدہ کوڈھال کے طورپر استعمال کیاجارہا ہے، پاکستان تحریک انصاف کے سینئر رہنماؤں نے وزیراعظم کو چیئرمین پی اے سی کے معاملے پر اپنے تحفظات سے آگاہ کردیا ہے ’’مجھے کیوں پکڑا‘‘ کا واویلا کریں گے نہ ہی اداروں کو تختہ مشق بنائیں گے ،عبدالعلیم خان نے تحقیقات میں ہر مرحلے پر نیب سے تعاون کیا،وزارت سے استعفی اور قانونی عمل کا سامنا روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے ایک سبق ہے، بلاامتیاز احتساب کا عمل موثر بنانے کیلئے اداروں کی تعمیر و اصلاح کا عمل یقینی بنائیں گے، پارٹی قائدین کو نیب کیخلاف کسی قسم کی منفی بیان بازی نہ کرنے کی خصوصی ہدایت کردی گئی ہے ۔ تفصیلات کے مطابق  وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں پی ٹی آئی کی سینئر قیادت کا اہم اجلاس ہوا۔ اجلاس کے بعد اپنے ویڈیو پیغام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہاکہ اجلاس میں سیاسی صورتحال کاجائزہ لیا گیا۔ فواد چوہدری نے کہاہے کہ ڈیل ہوگی نہ ڈھیل ہوگی بدعنوانی کے مقدمات کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے ، عمران خان نے 22 سال کرپشن کیخلاف جدوجہد کی یہ کوئی ذاتی لڑائی نہیں کسی کو این آر او مل جائے یہ ناممکن ہے ،واضح ہوجانا چاہیے کہ پی ٹی آئی کے دورحکومت میں کسی کو این آراو نہیں ملے گا، پارٹی کے سینئر ارکان نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں شہباز شریف کے کردارپر شدید اظہار تشویش کیا، شہباز شریف نے پبلک اکاؤنٹس کمیٹی میں نیب کے لوگوں کو طلب کرکے دباؤ ڈالا ہے ، شہباز شریف و مسلم لیگ ن پی اے سی کو بدعنوانی مقدمات کیلئے ڈھال کے طورپر استعمال کررہے ہیں،سعدرفیق کو اسی ڈھال کیلئے پی اے سی میں آنے کا کہا جارہا ہے ۔ وزیر اطلاعات نے کہا کہ علیم خان نے نیب کی گرفتاری کے فوراً بعد عہدے سے استعفیٰ دیا، علیم خان کا استعفیٰ ثابت کرتا ہے کہ پی ٹی آئی اور دیگر سیاسی جماعتوں کے کلچر میں کیا فرق ہے؟ علیم خان نے استعفی دے کر شاندار روایت کا آغاز کیا ، علیم خان جانتے ہیں انہوں نے اپنے عہدے کا استعمال کیے بغیر نیب مقدمات کاسامناکرنا ہے، شہباز شریف کی بھی اسی طرح کی سوچ ہونی چاہیے۔ مطالبہ کرتے ہیں کہ شہباز شریف چیئرمین پی اے سی کے عہدے سے علیحدہ ہوں غیر جانبدار احتساب ملک کی ضرورت ہے اس سلسلے میں عدالتوں کے پیچھے کھڑے ہیں،ایسا نہیں لگنا چاہیے کہ عدم توازن قائم کیا جارہا ہے ،احتساب میں شفافیت اور میرٹ نظر آنا چاہیے۔ دوسری طرف  مرکزی سیکرٹری جنرل تحریک انصاف ارشد داد نے اسی اجلاس میں شرکت کے بعد اپنے بیان میں کہا ہے کہ سینئر وزیر عبدالعلیم خان نے وزارت سے مستعفی ہوکر مثبت جمہوری روایت قائم کی ہے، پاکستان سے کرپشن کا انسداد تحریک انصاف کے اصلاحاتی ایجنڈے میں سرفہرست ہے، چیئرمین تحریک انصاف روزاول سے پاکستان میں کرپشن کی بیخ کنی کیلئے سرگرمِ عمل ہیں۔ عبدالعلیم خان کی گرفتاری پر “مجھے کیوں پکڑا” کا واویلا کریں گے نہ ہی اداروں کو تختہ مشق بنائیں گے۔ عبدالعلیم خان نے تحقیقات میں ہر مرحلے پر نیب سے تعاون کیا۔ وزارت سے استعفیٰ دیکر مکمل طور پر قانونی عمل کا سامنا کرنے کا فیصلہ روایتی سیاسی جماعتوں کیلئے ایک سبق ہے، بلاامتیاز احتساب کا عمل موثر بنانے کیلئے اداروں کی تعمیر و اصلاح کا عمل یقینی بنائیں گے، پارٹی قائدین کو نیب کیخلاف کسی قسم کی منفی بیان بازی نہ کرنے کی خصوصی ہدایت کردی گئی ہے۔