ایران میں لاپتہ پاکستانی
تحریر: نذر حافی
 گمشدگی اور لاپتہ ہو جانا، بہت بڑا المیہ ہے، خصوصاً جب کسی المیے کے پیچھے سرکاری اداروں کا ہاتھ ہو، یہ گمشدگیاں انواع و اقسام کی ہوتی ہیں اور ان کے مقاصد بھی مختلف ہوتے ہیں، اگرچہ آئین پاکستان ایسی گمشدگیوں اور ماورائے عدالت عوام کے لاپتہ ہونے کی اجازت نہیں دیتا، تاہم ایسا ہونا ایک زمینی حقیقت ہے اور سانحہ ساہیوال کے بعد ماورائے عدالت قتل و غارت ہونے پر بھی مہر تصدیق ثبت ہوچکی ہے۔ اس میں بھی کوئی دو رائے نہیں ہیں کہ ہمارے ہاں اپنے حقوق کے لئے بات کرنے والوں کو غدار اور ملک و ملت کا دشمن قرار دے دیا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اکثر مناطق میں بات حقوق کے مطالبے سے شروع ہوتی ہے اور افراد کے لاپتہ ہونے اور ماورائے قتل ہونے پر جا کر ختم ہوتی ہے۔ اکثر افراد ریاست کو ماں سمجھ کر اپنی فریاد بلند کرتے ہیں، جبکہ ریاستی ادارے ان سے سوتیلے بچوں جیسا سلوک کرتے ہیں، افراد اور ریاستی اداروں کے درمیان، اعتماد، محبت، باہمی تعاون اور حقوق و فرائض کا رشتہ ہونا چاہیئے۔ جب کسی بھی وجہ سے یہ رشتہ ٹوٹ جاتا ہے یا کمزور ہو جاتا ہے تو پھر اس رشتے کو بحال ہونے میں کئی پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور اکثر عوام اور ریاستی اداروں کے درمیان فاصلہ بڑھتا ہی چلا جاتا ہے۔
اگرچہ یہ بڑھتا ہوا فاصلہ عوام اور ریاستی اداروں دونوں کے نقصان میں ہوتا ہے، تاہم بعض اوقات اس کو ختم کرنا دونوں کے ہی بس میں نہیں رہتا۔ جب سرکاری ادارے اس فاصلے کو اہمیت نہیں دیتے اور عوامی ناراضگی و بے چینی کی پرواہ نہیں کرتے تو یہ فاصلے عوام میں اضطراب اور بے چینی کو جنم دیتے ہیں۔ اس عوامی اضطراب اور بے چینی سے ایسی تحریکیں، تنظیمیں اور گروہ وجود میں آتے ہیں، جو قوم کو تقسیم در تقسیم کرتے چلے جاتے ہیں۔ اس تقسیم در تقسیم کے بعد سرکاری ادارے اور عوام ایک ملت ہونے کے بجائے دو سخت دشمنوں کی صورت اختیار کر لیتے ہیں، زندہ باد اور مردہ باد کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور صورتحال ہائے ہائے اور پتلے جلانے سے لے کر جلسے جلوسوں اور ٹائر جلانے کی طرف چلی جاتی ہے۔ یہ ایک آئینی حقیقت ہے کہ سرکاری ادارے، عوام کی خدمت کے لئے بنائے جاتے ہیں اور سرکاری اہلکاروں کا فریضہ فقط عوام کی خدمت ہے، لیکن ہمارے ہاں عوام کے ساتھ سرکاری اداروں اور اہلکاروں کا رویہ ایسا ہوتا ہے کہ مکتی باہنی جیسی تحریکیں اور منظور پشتین جیسے لیڈر منظر عام پر آنے لگتے ہیں۔ ایسی تحریکیں اور ایسے لیڈر سرکاری اداروں کے پیدا کردہ حالات کی پیداوار ہی ہوتے ہیں۔ سرکاری اداروں پر چیک ایند بیلنس نہ ہونے کی وجہ سے محبتوں کے بجائے نفرتیں پھیلتی ہیں اور ان نفرتوں سے دشمن ممالک اور ان کی ایجنسیاں بھی بھرپور فائدہ اٹھاتی ہیں۔
لاپتہ افراد، گمشدہ لوگوں اور ماورائے عدالت قتل ہونے والے واقعات کے تناظر میں پاکستان کے اعلیٰ حکام سے ہماری درمندانہ اپیل ہے کہ خدارا عوام اور سرکاری اداروں کے درمیان فاصلوں کو کم کیجئے، محبتوں کو عام کیجئے، سرکاری ملازمین پر چیک اینڈ بیلنس رکھیئے، عوامی مسائل اور شکایات کا فوری اور از خود نوٹس لیجئے۔ ہم اس ساری تمہید کے بعد ایران میں لاپتہ ہونے اور گمشدہ ہونے والے پاکستانیوں کے بارے میں کچھ کہنا چاہتے ہیں، جیسا کہ پہلی سطر میں ہم عرض کرچکے ہیں کہ سرکاری اداروں کے ہاتھوں لاپتہ ہونے والے افراد کی گمشدگیوں کی انواع و اقسام ہوتی ہیں۔ ایران میں جو پاکستانی لاپتہ اور گمشدہ ہیں، یہ اس طرح کے لاپتہ افراد نہیں ہیں کہ جس طرح کے پاکستان میں لاپتہ افراد پائے جاتے ہیں بلکہ ان کی ایک الگ قسم ہے۔ یہ اس طرح کے لوگ ہیں، جنہیں گذشتہ چھ ماہ سے تہران میں قائم پاکستان ایمبیسی پاسپورٹ بنا کر نہیں دے رہی۔ یہ لوگ ایک دوسرے ملک میں رہتے ہوئے اپنی اور اپنے بیوی بچوں کی قومی و ملی شناخت کھو چکے ہیں۔ جیسا کہ ہم سب جانتے ہیں کہ پاسپورٹ، مرکزی حکومت کی جانب سے جاری کی گئی ایک دستاویز ہے، جو بین الاقوامی سفر کے لئے اپنے حامل کی شناخت اور قومیت کی تصدیق کرتی ہے اور اس دستاویز پر اس شخص کے سفر کے دوران میں ہر بین الاقوامی سرحد کو عبور کرنے کی تاریخ درج کی جاتی ہے۔
پاسپورٹ کے بغیر کوئی بھی شخص کسی دوسرے ملک میں کیسے زندگی گزارتا ہے، اس کا اندازہ صرف اور صرف انہی لوگوں کو ہے، جو دوسرے ممالک میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ اس وقت ایران میں مقیم پاکستانی اپنی قومی شناخت کے لئے جگہ جگہ ذلیل و خوار ہو رہے ہیں، انہیں قدم قدم پر پاسپورٹ کی ضرورت پڑتی ہے، وہ بچوں کے سکول میں داخلے کا مسئلہ ہو یا کسی لائبریری میں ممبر شپ کے لئے اپلائی کرنا ہو، کوئی چھوٹا موٹا سفر کرنا ہو یا مزید اقامت کی ضرورت ہو، ہر جگہ پر پاسپورٹ چاہیئے، لیکن ایمبیسی کی طرف سے چھ ماہ سے پاسپورٹ کا کام تعطل کا شکار ہے۔ اس وقت ایران میں مقیم پاکستانی کس اضطراب اور پریشانی میں دن رات گزار رہے ہیں، اس کو درک کرنے اور اس مسئلے کو ترجیح بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رہے کہ ایران میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کو تہران میں قائم پاکستانی ایمبیسی کے اہلکاروں سے کوئی گلہ نہیں بلکہ اعلیٰ حکام سے شکایت ہے کہ جو مسلسل شکایات کے باوجود چھ ماہ سے اس مسئلے کا کوئی حل نہیں نکال رہے۔ چھ ماہ سے ایران میں پاکستانی لاپتہ ہوچکے ہیں، اپنی قومی شناخت کھو چکے ہیں، انہیں اپنی قومی شناخت کے لئے پاسپورٹ کی ضرورت ہے! کیا دنیا میں کوئی ایسا ادارہ، کوئی ایسا ٹی وی چینل، کوئی ایسی وزارت یا ایسی عدالت ہے، جو اس قسم کی گمشدگیوں کا بھی نوٹس لے اور ایران میں مقیم پاکستانیوں کو ان کی کھوئی ہوئی شناخت واپس دلائے۔