تحریر سید نجف علی شاہ سابقہ ضلعی صدر ایم ایس ایف لودھراں

 مدینہ کی ریاست کے کھوکھلے نعرے سابقہ حکومتوں کی طرح اس حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد اس غریب مظلوم عوام پر ظلم کے انبار لگا دئیے جہاں پر دوسری کئی سہولیات غریبوں سے چھین لی گئی وہیں پر حج کے لئے مہیا کی جانے والی سبسڈی حکومت نے ختم کر کے پرائمری اور مڈل کلاس کے لوگوں کے ساتھ زیادتی کی ہے اس سبسڈی کے ختم ہونے سے ہائی لیول کے لوگوں کو کوئی فرق نہیں پڑے گا البتہ مزدور طبقہ جیسے پرائمری مڈل کلاس کے لوگ ہیں ان کے لیے ایک بہت بڑا مسئلہ ہے حکومت نے ایک لمحہ سوچے سمجھے بغیر پاکستان کی غریب عوام پر اتنا بڑا ظلم کیا حالانکہ پاکستان ایک اسلامی ملک ہے تو حکومت وقت کو چاہیے کہ اسلام کے حوالے سے تمام مراعات لوگوں کو دی جائیں موجودہ حکومت کے لیے اہمیت کی بات یہ ہے کہ سابقہ حکومتوں نے حج پر جانے والوں کو یہ سبسڈی فراہم کی ہے حکومت کے اس ناکارہ فیصلے سے پاکستانیوں کے دل مجروح ہوئے ہیں صرف پاکستان ہی نہیں دوسرے غیر اسلامی ممالک بھی اپنے ملک کے مسلمانوں کو حج پر بھیجنے کے لئے کوئی خدمت کی کمی نہیں رکھتے حالانکہ انڈیا اسلام مخالف ممالک میں شمار ہوتا ہے انڈیا کی حکومت حج پر جانے والے مسلمانوں کو 30 فیصد تک رعائیت دیتی ہے اور اس کے ساتھ وہ حج پر جانے والے لوگوں کو اس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے ساتھ ادویات کھانے پکانے کا سامان اور برتن وغیرہ ساتھ لے کے جا سکتے ہیں پاکستان میں حج پر جانے والے لوگوں کو یہ سامان ساتھ لے جانے کی اجازت بالکل نہیں ہے اسی طرح انڈونیشیا کی حکومت حج پر جانے والے لوگوں سے صرف کرایہ وصول کر کے باقی تمام اخراجات خود ادا کرتی ہے بنگلہ دیش کی حکومت حج پر جانے والوں کو 20فیصد تک کی خصوصی رعائیت دیتی ہے سری لنکا کی حکومت اپنے ملک کے مسلمانوں کو حج پرجانے کے لیے بلاسود قرضہ بھی فراہم کرتی ہے چین کا ایک اپنا الگ طریقہ کار ہے کیونکہ چین کے لوگ سب سے پہلے اپنے کاروبار کے بارے میں سوچتے ہیں چینی حکومت حج پر جانے والے لوگوں کو اپنی پروڈکٹ ساتھ لے جانے کی اجازت دیتی ہے وہ اپنے ملک کی چیزیں لے جاتے ہیں اور وہاں سعودی عرب میں ان کو فروخت کرکے حج کے اخراجات پورے کرتے ہیں تو عرض کرنے کا مقصد یہ ہے کہ پاکستان اس وقت تمام ممالک میں واحد ملک ہے جس میں حج کے اخراجات سب سے زیادہ ہیں باوجود اس کے کہ یہ ایک اسلامی ملک ہے یہاں پر یہ بات بھی قابل غور ہے کے اس وقت پاکستان معاشی بد حالی کا شکار ہے تو اس حوالے سے میں عرض کرتا چلوں کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ لوگوں کی آمدنیوں کا تخمیہ لگائے ہائی کلاس میں زندگی بسر کرنے والے لوگوں کو حکومت بالکل سبسڈی مہیا نہ کرے جب کہ مڈل کلاس کے لوگوں کو حج پر جانے کے لئے 30 فیصد تک کی سبسڈی مہیا کرے اور پرائمری کلاس کے لوگوں کو 50فیصد تک کی حکومت خصوصی رعائیت دی جائے اور ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ حکومت فی الفور اس مطالبے پر عمل کرے اور حج سبسیڈی مہیا کرے تاکہ حج پر جانے کے لئے پاکستان کی غریب عوام کو کسی قسم کی مشکل کا سامنا نہ کرنا پڑے میں امید کرتا ہوں میرے اس پرزور مطالبے پر حکومت ضرور ایکشن لے گی